نئی دہلی، 21 جون (آئی این ایس انڈیا) نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے بنگلورو کے نواحی علاقہ بوماسندرا کے قریب کیتھی گانھلی جھیل میں آلودگی پھیلانے پر کرناٹک حکومت پر 10 لاکھ روپے کا عبوری جرمانہ عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ آلودگیوں کو آبی ذخائر میں پھینکنے پر روک نہ لگاکر حکام کے ذریعہ جرم کیاجارہاہے۔
ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس آدرش کمار گوئل کی سربراہی میں بنچ نے بوماسندرا کارپوریشن کونسل کو اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام رہنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ بنچ نے کہاکہ اس ٹریبونل اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں آئینی ذمہ داری کو ادا کرنے اور ریاستی حکام کی بے حسی اور خلاف ورزی پر کارپوریشن کونسل کی ناکامی کی قیمت ماحولیات اور صحت عامہ کوادا کرنی پڑرہی ہے اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے، جس پر فوری ضروری کاروائی کرنے اور قصوروار افسران کا احتساب طے کرنے کی ضرورت ہے۔
این جی ٹی نے کہا کہ محض خط لکھنا قانون کی پابندی نہیں ہے اور متعلقہ عہدیداروں کے رویہ کو شاید ہی ذمہ دارانہ کہا جاسکتا ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ گندے پانی میں ناقابل تلافی گندے پانی کے اخراج سے ایک بڑا نقصان ہوا ہے اور یہ متعلقہ ریاستی عہدیداروں کا فرض ہے جس کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہے۔ بنچ نے کہاکہ(اس کے لئے) کرناٹک 10 لاکھ اور بوماسندرا نگم پریشد 5 لاکھ روپے (بطور جرمانہ) ادا کرنے کے ذمہ دار ہے۔ حتمی معاوضے کا فیصلہ ریاست اور کارپوریشن کونسل کی طرف سے سماعت کے بعد کیا جائے گا۔ٹربیونل سنجے راؤ اور دیگر کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے، جنھوں نے کیتھی گانہلی جھیل میں کچرا پھینکنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔